قادیانی جماعت مرزا کی تحریروں کا ترجمہ کیوں نہیں کرتی؟ آخر کیا چھپایا جا رہا ہے؟

قادیانی جماعت مرزا کی تحریروں کا ترجمہ کیوں نہیں کرتی؟ آخر کیا چھپایا جا رہا ہے؟

مرزا غلام احمد قادیانی کی اصل تحریریں، جو اردو اور عربی میں لکھی گئی ہیں، آج بھی دنیا کی بیشتر غیر اردو دان آبادی کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ یہی بات احمدیہ (قادیانی) جماعت کے ناقدین کے لیے شدید اعتراض کی بنیاد بن چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ ترجمہ نہ کرنے کی پالیسی محض زبان کی پیچیدگی نہیں بلکہ ایک منظم کوشش ہے تاکہ وہ متنازع اور بعض اوقات اخلاقی طور پر ناپسندیدہ مواد عوام سے چھپا رہے۔

ناقدین کے اعتراضات

جان بوجھ کر عدم ترجمہ

ناقدین دعویٰ کرتے ہیں کہ قادیانی جماعت مرزا غلام احمد کی ایسی تحریروں کا ترجمہ کرنے سے گریز کرتی ہے جن میں سخت زبان، مبالغہ آمیز دعوے اور متنازع خیالات پائے جاتے ہیں۔ یہ عدم ترجمہ شعوری طور پر کیا جاتا ہے تاکہ عالمی سطح پر بدنامی سے بچا جا سکے۔

گالم گلوچ اور مناظرانہ انداز

مخالفین کا کہنا ہے کہ مرزا غلام احمد کی تحریروں میں مخالفین کے خلاف سخت الفاظ، لعنت ملامت، اور بازاری طرز کے چیلنجز ملتے ہیں جو کسی پیغمبر کے شایانِ شان نہیں۔ اگر ان اقتباسات کا کھلے عام ترجمہ کیا جائے تو نہ صرف جماعت کا امیج متاثر ہوگا بلکہ بانی کے کردار اور نبوت کے دعوے پر بھی سوالات کھڑے ہوں گے۔

عقائد کے انکشاف کا خوف

ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ مکمل ترجمے سے بعض ایسے بیانات سامنے آئیں گے جو قادیانی عقائد میں تضاد اور الجھاؤ کی نشان دہی کریں گے۔ اس سے ان کا بیانیہ کمزور پڑ سکتا ہے۔

مخالفین کی شفافیت

قادیانی جماعت کے مخالفین اپنی تنقیدی تحریروں کو کئی زبانوں میں شائع کرتے ہیں، جسے وہ “شفافیت” کا ثبوت کہتے ہیں، جبکہ احمدیہ جماعت اس سطح کی کھلی رسائی فراہم نہیں کرتی۔

ختمِ نبوت کے عقیدے سے کھلی مخالفت

مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت نہ صرف یہ کہ اسلامی عقیدے “خاتم النبیین” کی نفی کرتا ہے بلکہ ان کی تحریروں میں “مسیح موعود” اور “نبی” جیسے القابات کھلے عام موجود ہیں۔ ان تحریروں کا ترجمہ اگر غیر اردو دان دنیا تک پہنچ جائے، تو قادیانی جماعت کا یہ دعویٰ کہ “ہم حضور ﷺ کے بعد کسی مستقل نبوت کے قائل نہیں” بےنقاب ہو جائے گا۔

دعویٰ نبوت میں تضادات اور خودساختہ وحیوں کی خامیاں

مرزا قادیانی کی ابتدائی تحریروں میں وہ دعویٰ نبوت سے انکار کرتے ہیں، مگر بعد میں واضح طور پر “نبی” ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کی مبیّنہ “وحیوں” میں نہ صرف نحوی و لغوی غلطیاں ہیں بلکہ بے سروپا پیشگوئیاں اور خود تضاد بیانات بھی شامل ہیں۔ اگر یہ سب کچھ مکمل ترجمے کے ساتھ عوام کے سامنے آئے، تو ان کے الہامی ہونے کا دعویٰ مشکوک ہو جائے گا۔

اسلامی تصورات کی از سرِ نو تعریف

مرزا غلام احمد نے “جہاد” جیسے بنیادی اسلامی تصورات کی ایسی تعبیر کی جو مکمل طور پر روایتی اسلامی تشریح سے متصادم ہے۔ اُن کے مطابق جہاد محض ایک روحانی جدوجہد ہے، حتیٰ کہ ظلم کے خلاف مزاحمت بھی ممنوع ہے۔ ان تحریروں کا ترجمہ عام مسلمانوں کو قائل کر سکتا ہے کہ قادیانی نظریہ دین کے بنیادی اصولوں سے منحرف ہے۔

مسیح موعود ہونے کا دعویٰ اور تاویلات کی حقیقت

قادیانی جماعت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد اُن اسلامی پیشگوئیوں کے مصداق ہیں جو مسیح موعود اور امام مہدی سے متعلق ہیں۔ تاہم ان تحریروں میں ان کا اندازِ بیان، پیشگوئیوں کی من پسند تاویلات، اور تاریخی سیاق و سباق سے انحراف بہت واضح ہے۔ مکمل ترجمہ اس دعوے کو علمی تنقید کے لیے کھول دے گا، اور ان کے مسیح ہونے پر سخت سوالات اٹھیں گے۔

تحقیر آمیز زبان اور غیر اخلاقی طرزِ تحریر

مرزا غلام احمد کی تحریروں میں مخالفین کے لیے بددعائیں، بازاری جملے، اور سخت طنزیہ و تحقیر آمیز زبان استعمال کی گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اسلوب کسی نبی یا روحانی رہنما کی شان کے قطعاً لائق نہیں۔ ان جملوں کا اگر غیر اردو قارئین کو علم ہو جائے، تو یہ نہ صرف جماعت کے اخلاقی امیج کو نقصان پہنچائے گا بلکہ بانی کی شخصیت پر بھی گہرے سوالات پیدا ہوں گے۔

ممکنہ جوابات و پس منظر

زبان و انداز کی پیچیدگی

مرزا غلام احمد کی نثر نہایت دقیق، مناظرانہ اور بعض مقامات پر شاعرانہ بھی ہے۔ اس میں دینی اصطلاحات، استعارات اور مقامی محاوروں کی بھرمار ہے۔ ان سب کا ترجمہ کرنا فکری و لسانی اعتبار سے نہایت مشکل ہے۔

مذہبی متون کے ترجمے کا حساس پہلو

تاریخی طور پر اسلامی اور دیگر مذہبی مکاتبِ فکر میں بھی اس بات پر احتیاط برتی جاتی رہی ہے کہ مقدس یا بنیادی متون کا ترجمہ نہ کیا جائے یا صرف ماہرین کی مدد سے کیا جائے، تاکہ مفہوم میں بگاڑ نہ آ جائے۔

جزوی اور منتخب ترجمہ

احمدیہ جماعت نے اپنی بعض منتخب تحریروں کو مختلف زبانوں میں ضرور شائع کیا ہے، بالخصوص بین المذاہب مکالمے یا تبلیغی مقاصد کے تحت۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ انتخابی ترجمہ مکمل اور غیر جانبدار تصویر پیش نہیں کرتا۔

قادیانی جماعت کی طرف سے مرزا غلام احمد کی اصل تحریروں کے مکمل اور غیر جانبدار ترجمے سے مسلسل گریز صرف ایک لسانی یا فنی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک فکری بحران ہے۔ اگر جماعت اپنے بانی کی تحریروں پر واقعی فخر محسوس کرتی ہے اور اُنہیں “الہامی و روحانی خزانہ” مانتی ہے، تو پھر اُن کا مکمل اور وفادار ترجمہ کرنے سے کیوں ہچکچاہٹ ہے؟

یہ سوال اس وقت تک اپنی شدت برقرار رکھے گا جب تک اصل تحریریں مکمل اور بین الاقوامی سطح پر دستیاب نہیں ہوتیں
کیا واقعی کچھ چھپایا جا رہا ہے؟ یا دنیا کو صرف وہی دکھایا جا رہا ہے جو انہیں قابلِ قبول ہو؟

Write a comment