کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اگر کسی بیمار دماغ والے نے قرآن و حدیث کے صاف اور واضح پیغامات کو اپنی خواہشات کے مطابق موڑنے کی کوشش کی ہو تو اُس کا انجام کیا ہوگا؟ یہی کچھ مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا۔ اُس نے نہ صرف مسیح موعود ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا، بلکہ رسولِ اکرم ﷺ کی احادیثِ صحیحہ کو بگاڑ کر اپنی تحریفات کا جال بچھایا۔ اس مضمون میں ہم انہی سوالات کا مدلل جواب دیں گے جو قادیانی جماعت کو آج تک الجھن میں ڈالے ہوئے ہیں، اور امتِ مسلمہ کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔
حدیثِ نزولِ مسیح اور دو زرد چادریں
اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا، وہ سفید مینار کے پاس مشرقی دمشق میں نازل ہوں گے، ان پر ہلکے زعفرانی رنگ کے دو کپڑے ہوں گے، اور وہ اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوں گے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو اس سے پانی کے قطرے ٹپکیں گے، اور جب سر اٹھائیں گے تو اس سے موتیوں جیسے قطرے گریں گے۔ ہر کافر جو ان کی خوشبو کو سونگھے گا مر جائے گا، اور ان کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نگاہ جائے گی۔ پھر وہ دجال کو تلاش کریں گے یہاں تک کہ اسے لُد کے دروازے پر پائیں گے اور قتل کر دیں گے۔
حضرت نَوَّاس بن سمعان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک صبح رسول اللہ ﷺنے دجال کا (تفصيلاً) ذکر فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا
إِذْ بَعَثَ اللهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ، فَلَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ، وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ، فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ، فَيَقْتُلُهُ
ابھی یہ اسی (قسم کے) حال میں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم علیہما السلام کو بھیج دے گا، (جن کی تفصیل یہ ہے کہ) وہ دمشق کے مشرقی جانب سفید مینار کے پاس آسمان سے اتریں گے۔ اس وقت وہ ہلکے زرد رنگ کی دو چادروں میں ملبوس ہوں گے اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ جب سر جھکائیں گے تو اس سے (پانی کے) قطرات ٹپکیں گے اور جب سر اٹھائیں گے تو اس سے ایسے قطرے گریں گے جو موتیوں کی طرح (چمک دار اور سفید) ہوں گے۔ آپ کے سانس کی خوشبو جو کافر بھی پائے گا اُسی وقت مر جائے گا، اور آپ کے سانس کی خوشبو منتہاے نظر تک پہنچے گی۔ پس عیسیٰ علیہ السلام دجال کو تلاش کریں گے، حتیٰ کہ اسے لُدّکے دروازے پر پا لیں گے اور اُسے قتل کر ڈالیں گے۔
پھرحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس وہ لوگ آئیں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے دجال (کے دھوکہ و فریب) سے محفوظ رکھا ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے چہروں پر دستِ شفقت پھیریں گے اور اُنہیں جنت میں ان کے درجاتِ (عالیہ) کی خوش خبری سنائیں گے۔ حضر ت عیسیٰ علیہ السلام اسی حالت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی نازل فرمائے گا: میں نے اپنے کچھ ایسے بندوں کو نکالا ہے جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے، لہٰذا آپ میرے (اَہلِ ایمان) بندوں کو (اپنے ساتھ) کوہِ طور پر اکٹھا کر لیں۔ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسا ہی کریں گے) اور اللہ تعالیٰ یا جوج ماجوج کو (اتنی بڑی تعداد میں) بھیجے گا کہ وہ ہر بلندی سے تیز رفتاری کے ساتھ پھسلتے ہوئے آئیں گے ۔ جب ان کا پہلا حصہ بحیرہ طبرستان سے گزرے گا تو اس کا سارا پانی پی کر ختم کر دے گا، اور جب ان کا آخری حصہ وہاں سے گزرے گا تو کہے گا کہ یہاں کبھی پانی ہی نہیں تھا۔
اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی (کوہِ طور میں) محصور ہو جائیں گے (اور اشیاء خورد و نوش کی قلت کے باعث) یہ نوبت آ جائے گی کہ ان میں سے کسی ایک کے نزدیک ایک بیل کی سری کو بھی تم میں سے کسی ایک کے سو دینار (اشرفیوں) سے بہتر سمجھا جائے گا۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے، تب اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کی گردنوں میں (وبا کی صورت میں) ایک کیڑا پیدا کر دے گا۔ اس سے وہ سب کے سب یک لخت ہلاک ہو جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی (جبلِ طور سے) زمین پر اتریں گے مگر زمین پر ایک بالشت بھر جگہ بھی یا جوج ماجوج (کی لاشوں) کی گندگی اور تعفن سے خالی نہ ہو گی۔ اس کے بعد اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ایسے (بڑے بڑے) پرندے بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹ کی گردنوں کی مانند ہوں گی اور یہ پرندے ان کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو گا وہاں پھینک دیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا جو زمین کو ہر طرح کی میل کچیل سے دھو دے گی اور ہر گھر خواہ مٹی کا ہو یا چمڑے کا کوئی خیمہ (یعنی یہ بارش مکانات والی بستیوں میں بھی ہو گی اور ان جنگلوں میں بھی جہاں خانہ بدوش خیموں میں رہتے ہیں) پر برستے ہوئے یہ بارش زمین کو دھو کر آئینہ کی طرح صاف کر دے گی۔
پھر زمین سے (اللہ تعالیٰ کا) خطاب ہو گا کہ اپنی پیدوار اگاؤ اور اپنی برکت ازسر نو ظاہر کرو ۔ چنانچہ اس زمانے میں ایک انار (اتنا بڑا ہو گا کہ اسے) آدمیوں کی ایک جماعت کھا سکے گی اور اس کے چھلکے کے نیچے لوگ سایہ حاصل کریں گے، اور دودھ میں اتنی برکت ہو گی کہ دودھ دینے والی ایک اونٹنی لوگوں کی بہت بڑی جماعت کے لیے کافی ہو گی اور دودھ دینے والی ایک گائے پورے قبیلے کے لیے کافی ہو گی، اور دودھ دینے والی ایک بکری پوری برادری کو کافی ہو گی۔ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ ایک خوش گوار ہوا بھیج دے گا جوان کے بغلوں کے زیریں حصہ میں اثر انداز ہو کر ہر مومن اور مسلمان کی روح قبض کر (لینے کا سبب بنے) گی اور (دنیا میں صرف) بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح (کھلم کھلا) زنا کیا کریں گے۔ چنانچہ انہی بد ترین لوگوں پر قیامت آئے گی۔
(صحیح مسلم2937، سنن ابی داؤد4321، سنن ابن ماجہ4075، مسند احمد17629)
یہ حدیث بالکل واضح اور روشن الفاظ میں اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ جب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر نازل ہوں گے تو ان کے جسمِ مبارک پر دو زرد رنگ کی چادریں ہوں گی۔ نبی کریم ﷺ نے یہ بات ایک ظاہری کیفیت کے طور پر بیان فرمائی ہے، جس میں کسی قسم کا مجاز، تمثیل یا علامتی مفہوم شامل نہیں۔ مگر افسوس کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس حدیث کی من مانی تاویل کرتے ہوئے ان چادروں کو دو بیماریوں کی علامت قرار دیا، جو کہ نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ علمی و دینی دیانت کے سراسر خلاف بھی ہے۔
کیا کسی صحیح حدیث میں یہ ذکر موجود ہے کہ یہ چادریں بیماری یا کسی اور علامت کی نمائندگی کرتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔ کیا رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں کوئی علامتی یا تاویلی وضاحت فرمائی؟ ہرگز نہیں۔ ان چادروں کا ذکر محض ایک حقیقت کے طور پر ہوا ہے، جسے ویسا ہی ماننا اور قبول کرنا ایک مسلمان کا فرض ہے۔
ان ظاہری نشانیوں کو علامتی مفہوم پہنانا اور حدیث کے سادہ اور واضح الفاظ کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنا ایک علمی خیانت اور دین میں تحریف کی کوشش ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے ارشادات ہمارے لیے ہدایت کا روشن مینار ہیں۔ ان میں اپنی طرف سے معنی داخل کرنا نہ صرف گمراہی کا سبب ہے بلکہ امت میں فتنہ پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔
مسیح و مہدی کی علامات: کیا مرزا میں کوئی پائی گئی؟
احادیثِ صحیحہ میں حضرت مسیح اور امام مہدی کی واضح علامات بیان کی گئی ہیں
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہا السلام کا نزول مشرقی دمشق میں ہوگا۔
صحیح مسلم: 2937
ماں کا نام مریم اور بغیر باپ کے ولادت۔
سورۃ النساء: 157
اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی نازل فرمائے گا۔ (یعنی نبی ہوں گے)
صحیح مسلم 2937
امام مہدی علیہ السلام
نام محمد، والد کا نام عبداللہ۔
عبداللہ بن مسعود ، رسول اللہﷺسے راوی، کہا:رسول اللہﷺنے فرمایا
لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلِيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آجائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔
مسند احمد3571
دوسری روایت میں ہے
لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلا يَوْمٌ، لَبَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا مِنَّا، يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا ” قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: ” رَجُلًا مِنِّي
دن اور رات کا چکر اور زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عرب میں میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آجائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔
(مسند احمد3572، 3573، 4098، 4279)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایا
لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ قَالَ زَائِدَةُ فِي حَدِيثِهِ: لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ»، ثُمَّ اتَّفَقُوا حَتَّى يَبْعَثَ فِيهِ رَجُلًا مِنِّي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي، وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمُ أَبِي ” زَادَ فِي حَدِيثِ فِطْرٍ: يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا، وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا
اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح کا برپا کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا، وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا، جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے“۔ سفیان کی روایت میں ہے: ”دنیا نہیں جائے گی یا ختم نہیں ہو گی تاآنکہ عربوں کا مالک ایک ایسا شخص ہو جائے جو میرے اہل بیت میں سے ہو گا اس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔
(سنن ابی داؤد 4282)
مختلف الفاظ کے ساتھ یہ روایت جامع ترمذی میں بھی ہے
(جامع ترمذی 2230، 2231)
سیدنا علی ابن ابی طالب علیہ السلام کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا
لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا يَوْمٌ، لَبَعَثَ اللَّهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا
اگر زمانہ سے ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو بھی اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص بھیجے گا وہ اسے عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جیسے یہ ظلم و جور سے (بھر دی گئی ہے۔
(سنن ابوداؤد: 4282، مسند احمد772)
سیدنا علی ابن ابی طالب علیہ السلام کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا
الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ، يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ
مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا، اللہ تعالیٰ ایک رات میں اس کی اصلاح فرمائے گا
مدینہ میں پیدائش، مکہ میں بیعت
(سننابن ماجہ: 4085)
سیدہ ام سلمہ کی روایت میں ہے، رحمتِ کونینﷺ نے فرمایا
الْمَهْدِيُّ مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ
مھدی فاطمہ کی اولاد میں سے ہوگا۔
دمشق میں فوج بھیجنا
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
يَقْتَتِلُ عِنْدَ كَنْزِكُمْ ثَلَاثَةٌ، كُلُّهُمُ ابْنُ خَلِيفَةٍ، ثُمَّ لَا يَصِيرُ إِلَى وَاحِدٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ تَطْلُعُ الرَّايَاتُ السُّودُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، فَيَقْتُلُونَكُمْ قَتْلًا لَمْ يُقْتَلْهُ قَوْمٌ» – ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا لَا أَحْفَظُهُ فَقَالَ – فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ، فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِيُّ
تمہارے ایک خزانے کے پاس تین آدمی باہم لڑائی کریں گے، ان میں سے ہر ایک خلیفہ کا بیٹا ہو گا، لیکن ان میں سے کسی کو بھی وہ خزانہ میسر نہ ہو گا، پھر مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے نمودار ہوں گے، اور وہ تم کو ایسا قتل کریں گے کہ اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اور بھی بیان فرمایا جسے میں یاد نہ رکھ سکا، اس کے بعد آپ نے فرمایا: ”لہٰذا جب تم اسے ظاہر ہوتے دیکھو تو جا کر اس سے بیعت کرو اگرچہ گھٹنوں کے بل برف پر گھسٹ کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہو گا۔
(ابن ماجہ: 4084 سندہ ضعیف)
پوری دنیا میں عدل کا نظام قائم کرنا
مرزا قادیانی ان میں سے کسی بھی علامت پر پورا نہیں اُترتا۔ نہ وہ دمشق میں اترا، نہ بغیر باپ کے پیدا ہوا، نہ اُس کی ماں کا نام مریم تھا، نہ وہ دجال کے خلاف کوئی معرکہ جیتا۔ پھر وہ کس بنیاد پر مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے؟ قادیانی جماعت اسی سبب ایک مخمصے میں پھنسی ہوئی ہے: اگر احادیث کو جھٹلائیں تو مرزا کا دعویٰ جھوٹا، اور اگر مانیں تو مرزا کی کوئی علامت پوری نہیں اُترتی۔
صدی کے سر پر مجدد اور چودھویں صدی: حدیث کا وجود؟
مرزا قادیانی نے لکھا
ایسا ہی احادیثِ صحیحہ میں آیا ہے کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم)
سوال یہ ہے: ایسی کون سی احادیث صحیحہ ہیں؟ کوئی ایک بھی مستند حدیث ایسی نہیں جس میں “چودھویں صدی” یا “صدی کے سر پر” مسیح کے آنے کا ذکر ہو۔ علماء کے مطابق یہ محض مرزا کا من گھڑت دعویٰ ہے، جسے اس نے اپنی کتاب کو وزنی اور مستند ظاہر کرنے کے لیے “احادیث صحیحہ” کا لبادہ اوڑھایا۔ یہ کھلی ہوئی علمی خیانت ہے۔
مرزا قادیانی اور سن 1335ھ کا جھوٹا حوالہ مرزا قادیانی نے لکھا
وہ مسیح 1335ھ تک اپنا کام کرے گا۔
(تحفہ گولڑویہ ص117، خزائن ج17 ص292)
مرزا قادیانی کا انتقال 1326ھ میں ہوا۔ تو کیا وہ اللہ کی دی گئی مدت بھی پوری نہ کر سکا؟ اگر وہ سچا ہوتا تو کم از کم اپنے دعوے کے مطابق 1335ھ تک زندہ رہتا۔ قادیانی جماعت آج تک اس پیش گوئی کو سچ ثابت نہیں کر سکی۔
دمشق کے کئی معانی
مرزا قادیانی نے دمشق کے کئی لغوی معانی بتائے سردار، ناقہ، جمل، چابک دست آدمی لیکن حدیث میں الفاظ ہیں
“عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق“
یہ مقام آج بھی دمشق (شام) میں موجود ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مقام نزول کی وضاحت جغرافیائی طور پر کی۔ اگر لغوی معنی مقصود ہوتے تو اتنی تفصیل نہ دی جاتی۔ علمائے امت نے ہمیشہ “دمشق” کو ایک شہر کے طور پر لیا ہے، اور کسی مفسر یا محدث نے اسے ناقہ یا چابک دست آدمی نہیں لکھا۔
مرزا قادیانی کے دعووں کا دجل ایک ایسا فتنہ ہے جس نے سچائی کے چہرے پر دھوکے کا نقاب ڈالنے کی کوشش کی۔ اُس نے نبوت، مسیحیت اور مجددیت جیسے بلند مقامات کو اپنی جھوٹی شہرت کے لیے استعمال کیا، اور امت مسلمہ کو گمراہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ اُس کے دعوے نہ صرف دین کی بنیادوں سے ٹکراتے ہیں بلکہ احادیثِ نبوی ﷺ اور اجماعِ امت کی صریح خلاف ورزی بھی ہیں۔
مرزا کے ان باطل دعووں کو “الہام” اور “مکاشفہ” کا لبادہ پہنا کر عوام کو دھوکہ دیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب محض نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کا فریب تھا۔ اُس کے دجل کی پہچان یہی ہے کہ وہ واضح نصوص کو بگاڑ کر، اور تاویلات کا سہارا لے کر اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے پر تُلا رہا۔
مرزا قادیانی نے اپنی سچائی کے لیے احادیثِ نبویہ ﷺ کو بگاڑا، تاویلات کا سہارا لیا، خوابوں کو حقائق پر ترجیح دی، اور امت مسلمہ کو ایک ایسا فتنے میں ڈال دیا جس سے نکلنے کا واحد راستہ ہے کہ ہم قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کی طرف لوٹ آئیں۔ قادیانی جماعت کو اب کھل کر اعلان کرنا چاہیے۔
یا تو احادیث کا انکار کریں، اور مرزا کا جھوٹا ہونا تسلیم کریں۔
یا پھر احادیث کو مان کر مرزا کی جھوٹی نبوت سے انکار کریں۔
اس فتنے کے خاتمے کے لیے ہر مسلمان کو بیدار ہونا ہوگا۔ قادیانیت کا گورکھ دھندہ صرف علمی، تحقیقی اور روحانی بیداری سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔



