عقیدہ ختمِ نبوت سے کیا مراد ہے؟ امتِ مسلمہ کے لیے اس کی کیا اہمیت ہے؟

عقیدہ ختمِ نبوت سے کیا مراد ہے؟ امتِ مسلمہ کے لیے اس کی کیا اہمیت ہے؟

اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک عقیدہ، ہے، یعنی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہ آئے گا، نہ ہی آ سکتا ہے ۔ آج کے دور میں، عمومی طور پر ہماری نوجوان نسل کو اس عقیدے کی اصل اہمیت سے ہٹا کر کچھ اور تعلیم دی جا رہی ہے۔ بعض نام نہاد علماء یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ

ایک انسان کی زندگی میں سب سے اہم عقیدہ توحید ہے، اور اگر وہ اس پر قائم ہے تو وہ بغیر کسی رکاوٹ کے جنت میں داخل ہو جائے گا، چاہے وہ حضور نبی کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ بھی رکھتا ہو۔

یہ نظریہ نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ اس کے پیچھے بعض معروف شخصیات کی طرف سے دیے گئے فتوے بھی موجود ہیں۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ ہم سمجھیں کہ ختمِ نبوت کا عقیدہ اتنی غیر معمولی اہمیت کیوں رکھتا ہے کہ اس کے لیے امتِ مسلمہ نے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

ختمِ نبوت کی بنیاد

اس عقیدے کی بنیاد یہ ہے کہ اگر ہم نبی کریم ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہ کریں، اور نبوت کا دروازہ کھلا رکھیں، تو اس کا مطلب ہو گا کہ کسی بھی زمانے میں ایک نیا نبی آ سکتا ہے۔ اور اگر ایسا ہو تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہو گا کہ نبی کریم ﷺ کی حیثیت ایک محدود عرصے تک ہی قائم رہی، پھر کسی اور نبی کے آنے کے بعد آپ ﷺ کی اطاعت کا دائرہ ختم ہو جائے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے حضرت موسیٰؑ کے بعد انبیاء آتے رہے، اور پھر حضرت عیسیٰؑ آئے۔

مگر جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے، تو سابقہ تمام انبیاء کی نبوت تو قائم رہی، لیکن ان کی اطاعت کا دور ختم ہو گیا۔ اب صرف اور صرف نبی کریم ﷺ کی اطاعت فرض ہے۔ اگر نبوت کا دروازہ کھلا رکھا گیا، تو امت میں وحدت کا خاتمہ ہو جائے گا، اور امت گروہوں میں بٹ جائے گی۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری نبی کا مقام

یہ عقیدہ محض اجتہادی یا فقہی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا منصب ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود عطا فرمایا ہے۔ قرآن و سنت میں بار بار نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین” یعنی تمام انبیاء پر مہر لگانے والا نبی قرار دیا گیا ہے۔ اس پر ایمان رکھنا فرض ہے۔ اگر اس دروازے کو کھول دیا جائے، تو نبی کریم ﷺ کی نبوت ایک مخصوص دور تک محدود ہو کر رہ جائے گی، جو کہ ایک سچے مسلمان کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔

حضرت ابوبکر صدیق کا طرزِ عمل

یہی وجہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق نے مسیلمہ کذاب کے خلاف باقاعدہ لشکر کشی کی۔ کیونکہ جو شخص مسیلمہ کو نبی مانتا تھا، وہ دراصل نبی کریم ﷺ کے مقام و مرتبہ کا انکار کر رہا تھا، جو اہلِ ایمان کے ہاں مسلمہ ہے۔

قادیانی مسئلہ اور موجودہ دور

اگر آپ غور کریں، تو جو شخص قادیانی بنتا ہے یا قادیانی گھرانے میں پیدا ہوتا ہے، وہ چاہے زبان سے کچھ نہ کہے، لیکن اس کے عمل، طرزِ فکر اور رویے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس کے نزدیک مرزا قادیانی کا مقام نبی کریم ﷺ سے کم نہیں بلکہ برتر ہے۔

مثال کے طور پر: اگر کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرے اور صرف نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے، مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے، تو ہمارے نزدیک وہ شخص مسلمان ہے۔ لیکن قادیانیوں کے نزدیک وہ کافر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک اصل اور آخری درجہ مرزا قادیانی کو حاصل ہے۔

ایسا کہنا گویا یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا مقام اب ثانوی ہو گیا ہے، اور اصل حیثیت مرزا قادیانی کو حاصل ہے۔

امت کی تقسیم اور شریعت کی تباہی

اسی لیے عقیدہ ختمِ نبوت اتنی بنیادی اور غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر اس پر سمجھوتہ کیا گیا تو امت مسلمہ فرقوں میں بٹ جائے گی، شریعت کا وجود باقی نہ رہے گا، اور نبی کریم ﷺ کی فضیلت و برتری بھی ختم ہو جائے گی۔

جب اللہ تعالیٰ نے خود نبی کریم ﷺ کو منتخب فرما کر بھیجا، تو پھر کوئی دوسرا دعویٰ قبول نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی شخص نبی کریم ﷺ پر ایمان نہ لائے تو اس کا کوئی درجہ نہیں۔ لیکن اگر سچا ایمان ہو، تو جیسا کہ حضرت عمر کو نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا

لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا اتِّبَاعِي

ترجمہ
اگر موسیٰ ؑزندہ بھی ہوتے تو ان کے لیے بھی میرے ہی پیچھے چلنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔

حوالہ
یہ حدیث حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے اور امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے

 (مسند احمد: 14631)،

 نیز اسے دارمی اور دیگر محدثین نے بھی روایت کیا ہے۔

یہ حدیث عقیدۂ ختمِ نبوت کی ایک روشن دلیل ہے، جس میں نبی کریم ﷺ نے واضح فرما دیا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی، خواہ وہ سابقہ انبیاء میں سے ہی کیوں نہ ہو، شریعت محمدی ﷺ سے باہر عمل نہیں کر سکتا۔

اگر کوئی شخص توحید پر ایمان رکھتا ہو، تو کیا وہ جنت میں داخل ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب قرآن سے لیا جا سکتا ہے۔

قرآنِ کریم میں صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان کو کافی قرار نہیں دیا گیا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تمام انبیاء پر ایمان بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔

اگر کوئی شخص انبیاء میں فرق کرے، تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ النساء (پارہ ششم) میں فرمایا

بے شک وہ لوگ جنہوں نے اللہ کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا، اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں، اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان کوئی راستہ نکالیں  یہی لوگ حقیقتاً کافر ہیں۔

یعنی: اللہ پر ایمان لانا ضروری ہے، اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا بھی اسی طرح فرض ہے۔ اور ان کے درمیان کسی قسم کی تفریق کرنا ایمان کے منافی ہے۔

عقیدہ ختمِ نبوت اسلام کی اساس میں سے ہے۔ اس پر ایمان کے بغیر نہ دین مکمل ہے، نہ عقیدہ محفوظ، نہ امت متحد۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کسی نبی کا تصور ناقابلِ قبول ہے، خواہ وہ کیسا ہی دعویٰ کرے۔

قادیانی فتنہ ہو یا کوئی اور، جو شخص نبی کریم ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہ کرے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ امت کو چاہیے کہ اس عقیدے کی حفاظت کو اپنا دینی، اخلاقی اور اجتماعی فریضہ سمجھے

Write a comment