قادیانیت (احمدیہ) اور مرکزی اسلام کے درمیان کلیدی عقائدی اختلافات

قادیانیت (احمدیہ) اور مرکزی اسلام کے درمیان کلیدی عقائدی اختلافات

قادیانیت یا احمدیہ تحریک، انیسویں صدی کے آخر میں برصغیر میں ابھری اور اپنے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوؤں کی بنیاد پر ایک علیحدہ دینی شناخت اختیار کی۔ اس تحریک کے ابھرنے کے ساتھ ہی امتِ مسلمہ میں ایک بڑا عقائدی بحران پیدا ہوا۔ قادیانی جماعت کے متعدد عقائد، خاص طور پر ختمِ نبوت، جہاد،اور مسلمانوں کے ساتھ سماجی تعلقات کے بارے میں ان کے نظریات، مرکزی اسلامی تعلیمات سے بظاہر واضح طور پر متصادم ہیں۔ پاکستان میں یہ موضوع نہ صرف مذہبی حوالے سے بلکہ آئینی، قانونی، اور سماجی تناظر میں بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ اس مضمون میں ہم ان عقائدی اختلافات کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

ختم نبوت کا تصور
مرکزی اسلام میں ختم نبوت کی حیثیت

اسلامی عقیدے کے مطابق، حضرت محمد ﷺاللہ کے آخری نبی ہیں۔ قرآن مجید میں سورۃ الاحزاب کی آیت 40 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍۢ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّـیْنَ

یہ آیت، اور اس کے علاوہ متعدد احادیث، اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ نبی اکرمؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہ عقیدہ اسلامی عقائد کا بنیادی ستون ہے اور اس پر ایمان رکھنا تمام مسلمانوں کے لیے فرض ہے۔ کسی بھی نئے مدعی نبوت کو ماننا کفر ہے اور اس کی تعلیمات سے انکار، ایمان کی علامت۔

قادیانیت کا موقف اور اس کی تشریح

احمدیہ جماعت، مرزا غلام احمد قادیانی کو “ظلی نبی” اور “مسیح موعود” مانتی ہے۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کو خدا کی طرف سے وحی ہوتی تھی اور وہ نبی تھے، لیکن ان کے مطابق وہ کوئی نئی شریعت لانے والے نبی نہیں تھے بلکہ محمدؐ کے تابع نبی تھے۔ ان کی اس تشریح کو امتِ مسلمہ کے مکاتب فکر نے رد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نبی کا مطلب، چاہے شریعت لانے والا ہو یا نہ ہو، وہ نبی ہی ہوتا ہے، اور یہ تصور ختم نبوت کے صریح انکار کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1974 میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔

اسلامی عقیدے میں شہادتِ ایمان کی اہمیت

اسلام میں شہادت یعنی “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کا اقرار کسی کو مسلمان بنانے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ فقہاء کے مطابق جب تک کوئی کھلے عام اسلام کے بنیادی عقائد کا انکار نہ کرے، اسے مسلمان تصور کیا جاتا ہے۔ تکفیر یعنی کسی کو کافر قرار دینا ایک انتہائی نازک معاملہ ہے اور بغیر واضح دلائل کے کسی پر یہ حکم لگانا ممنوع ہے۔

قادیانی عقیدہ: غیر احمدیوں کو کافر قرار دینا

احمدیہ جماعت اپنے ماننے والوں کے سوا باقی تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتی ہے۔ مرزا غلام احمد نے اپنی تحریرات میں واضح الفاظ میں لکھا کہ جو شخص ان پر ایمان نہ لائے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ اس کے نتیجے میں احمدی افراد نہ صرف غیر احمدیوں سے نکاح، نماز اور جنازے میں شرکت کو حرام سمجھتے ہیں، بلکہ ان کے ساتھ سماجی تعلقات کو بھی محدود رکھتے ہیں۔ یہ رویہ مسلمانوں کے درمیان مزید تفرقے کا باعث بنتا ہے اور وحدتِ امت کو نقصان پہنچاتا ہے۔

مقدس مقامات اور مذہبی رسومات/ مکہ و مدینہ کی تقدیس

اسلام میں مکہ اور مدینہ کو سب سے مقدس مقامات مانا جاتا ہے۔ مکہ میں خانہ کعبہ اور مدینہ میں روضۂ رسولؐ کی موجودگی ان مقامات کو دینی تقدیس کا درجہ دیتی ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان حج و عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ کا رخ کرتے ہیں، اور مدینہ کی زیارت کو روحانی سکون کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

قادیان کو مقدس مقام قرار دینا

قادیانی جماعت کے کچھ افراد نے قادیان (بھارت میں واقع) کو ایسا مقدس مقام قرار دیا ہے کہ بعض اوقات اس کی برابری یا برتری مکہ و مدینہ سے بھی کی جاتی ہے۔ ان کے بعض رہنماؤں کی تقاریر اور تحریرات میں قادیان کی “مقدس زمین” کا ذکر اس انداز سے کیا جاتا ہے جو مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول ہے۔ حج کی بجائے قادیانی سالانہ جلسہ قادیان کو “روحانی اجتماع” قرار دیتے ہیں، جو کہ اسلامی شعائر کے متصادم سمجھا جاتا ہے۔

قرآن و سنت کا تصور
اسلامی تعلیمات میں قرآن و حدیث کی حیثیت

قرآن کو اللہ کا آخری اور مکمل کلام مانا جاتا ہے، جو قیامت تک کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ، صحیح احادیث کو قرآن کی تفسیر و تشریح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ امت کا اجماع اس بات پر ہے کہ کوئی نئی وحی یا کتاب، قرآن کے بعد نہیں آسکتی۔

احمدیہ جماعت کی تعبیرات اور تنقید

احمدی جماعت مرزا غلام احمد کی تحریرات کو اس قدر اہمیت دیتی ہے کہ بعض ناقدین کے مطابق، وہ ان کو قرآن کے برابر یا حتیٰ کہ اس سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ بعض دعوؤں کے مطابق، احمدی “الکتاب المبین” کے نام سے ایک علیحدہ الہامی کتاب پر بھی یقین رکھتے ہیں، اگرچہ جماعت اس کی تردید کرتی ہے۔ وہ صرف انہی احادیث کو مانتے ہیں جو ان کے عقائد سے ہم آہنگ ہوں، جس سے ان کے رویے کو “چنیدہ شریعت” کا نام دیا جاتا ہے۔

مسلمانوں کے ساتھ سماجی تعلقات
اسلامی تعلیمات میں وحدتِ اُمت

اسلام میں وحدتِ امت ایک بنیادی اصول ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی ہونے، اختلافات سے بچنے، اور اجتماعی عبادات میں شرکت کی ترغیب دی گئی ہے۔ نماز، جنازہ، نکاح، اور دیگر سماجی معاملات میں فرقہ واریت کی بجائے یگانگت کو فروغ دینا ہی نبی کریمؐ کی سنت ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل سمیت تمام فقہاء نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو اسلامی معاشرت کی بنیاد قرار دیا ہے۔

قادیانی جماعت میں سماجی علیحدگی

احمدیہ جماعت اپنے عقائد کے باعث خود کو دیگر مسلمانوں سے الگ رکھتی ہے۔ ان کے ہاں غیر احمدیوں کے ساتھ نکاح، نمازِ باجماعت اور جنازوں میں شرکت ممنوع ہے۔ قادیانی امام کی اجازت کے بغیر کسی غیر احمدی سے رشتہ یا رابطہ جائز نہیں سمجھا جاتا۔ اس رویے سے نہ صرف معاشرتی علیحدگی بڑھتی ہے بلکہ یہ تاثر بھی گہرا ہوتا ہے کہ جماعت خود کو امتِ مسلمہ کا حصہ نہیں سمجھتی۔ یہی سبب ہے کہ مختلف مسلم مکاتب فکر انہیں ایک علیحدہ مذہب سمجھتے ہیں، نہ کہ اسلام کا کوئی فرقہ۔

جہاد کا مفہوم
جہاد کا روحانی و جسمانی پہلو

اسلام میں جہاد ایک ہمہ گیر تصور ہے جو محض تلوار اٹھانے کا نام نہیں بلکہ اپنی ذات، نفس، اور معاشرتی برائیوں کے خلاف جدوجہد کو بھی شامل کرتا ہے۔ قرآن مجید میں “جہاد بالنفس”، “جہاد بالعلم”، اور “جہاد بالمال” کے مختلف پہلو بیان کیے گئے ہیں۔ تاہم، جب دین یا امت پر حملہ ہو، تو جسمانی جہاد کا تصور بھی موجود ہے، جس کے اصول اور قیود واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ جنگ کی اجازت صرف دفاعی صورت میں، حکومتِ وقت کی سربراہی میں، اور ظلم کے خلاف دی گئی ہے۔

قادیانی موقف: صرف روحانی جہاد

قادیانی جماعت جہاد کو صرف روحانی مفہوم تک محدود کرتی ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ دور میں تلوار کا جہاد منسوخ ہو چکا ہے اور صرف علمی و روحانی جہاد ہی باقی ہے۔ یہ موقف بظاہر پرامن نظر آتا ہے، مگر قرآن کے خلاف ہے۔ تاریخی تناظر میں اسے برطانوی حکومت کے ساتھ مصالحت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد کے دور میں جب برصغیر میں مسلم مجاہدین انگریزوں کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے، انہوں نے مسلح جہاد کو حرام قرار دے کر ان کی مخالفت کی۔ یہ پہلو آج بھی جماعت پر تنقید کا سبب بنتا ہے، خصوصاً جب دنیا کے دیگر حصوں میں مظلوم مسلمانوں کے لیے جہاد کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔

قادیانیت اور دیگر مذاہب کے درمیان فرق
ختم نبوت پر عقائدی فرق

احمدیہ جماعت کا ختمِ نبوت پر موقف، اسے دیگر مذہبی اقلیتوں سے ممتاز کرتا ہے۔ جبکہ عیسائیت، ہندومت، یا سکھ مت میں نبوت کا دعویٰ محمدؐ کے بعد نہیں کیا جاتا، قادیانیت اس بنیادی اسلامی عقیدے کے برعکس، نئے نبی کا اعلان کرتی ہے۔ یہی عقیدہ اسے محض ایک فرقہ نہیں بلکہ ایک علیحدہ مذہب بناتا ہے، کیونکہ وہ مسلمانوں کے متفقہ اصول سے انحراف کرتی ہے۔

غیر مسلم مذاہب کا رویہ

غیر مسلم مذاہب جیسے عیسائیت، ہندومت، یا سکھ ازم، اسلام کو ایک الگ دین کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ ان کی جانب سے مسلمانوں کو کافر قرار دینا یا مسلمانوں کے شعائر میں مداخلت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان مذاہب کی مذہبی آزادی پاکستان میں بھی قانونی طور پر تسلیم کی جاتی ہے، جبکہ قادیانی جماعت کا مسلمانوں کی مذہبی اصطلاحات کو اپنانا تنازع کا باعث بنتا ہے۔

پاکستان میں قادیانی جماعت کا قانونی و آئینی مقام
آئینی دفعات اور قوانین

آئین کے آرٹیکل 260(3) میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانی جماعت کو غیر مسلم قرار دیا۔ اس کے مطابق، وہ افراد جو محمد ﷺکو آخری نبی نہیں مانتے، مسلمان نہیں کہلا سکتے۔ اس آئینی ترمیم کے بعد، 1984 میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں اینٹی قادیانی آرڈیننس جاری کیا گیا، جس کے تحت احمدیوں کو اسلامی اصطلاحات کے استعمال، اذان دینے، مسجد کہنے، یا خود کو مسلمان کہنے پر قید و جرمانہ کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

اینٹی قادیانی آرڈیننس 1984

اس آرڈیننس کے تحت قادیانی افراد کو “ممنوعہ مذہبی سرگرمیاں” سے روکا گیا ہے۔ ان پر اسلامی شعائر کی نقل، اپنے عبادت خانوں کو مسجد کہنے، یا قرآن و سنت کی تشریحات کو استعمال کرنے پر پابندی ہے۔ یہ قانون تنقید کا نشانہ بھی بنتا ہے، مگر اس کا پس منظر یہی ہے کہ قادیانی مذہب کی بنیادی تعلیمات کو اسلام سے متصادم تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں قادیانی جماعت کے خلاف مخالفت کی وجوہات
عقائدی تضاد اور کفر کا فتویٰ

قادیانی جماعت کے خلاف مخالفت کی سب سے بنیادی وجہ عقائدی تضاد ہے۔ امتِ مسلمہ کے تمام مکاتبِ فکر ،دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث اور شیعہ  سب اس بات پر متفق ہیں کہ ختم نبوت کا انکار یا کسی نئے نبی کا دعویٰ ایمان کے منافی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا دعویٰ اور اُن کے پیروکاروں کی جانب سے دیگر مسلمانوں کو کافر کہنا، ان پر اجتماعی فتویٰ کفر کی بنیاد بنا۔ پاکستان میں علماء نے متفقہ طور پر اس گروہ کو اسلام سے خارج قرار دیا۔

یہ فتویٰ کوئی وقتی جذباتی ردعمل نہیں بلکہ قرآن و سنت اور اجماعِ امت کی بنیاد پر دیا گیا۔ قادیانیوں کا موقف ہے  کہ مرزا غلام احمد نبی تو ہیں، مگر نیا دین نہیں لائے، مسلمانوں کے نزدیک ایک خطرناک مغالطہ ہے کیونکہ اسلامی اصول کے مطابق، نبی وہی ہوتا ہے جو وحی پاتا ہے، اور وحی کا دروازہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد بند ہو چکا ہے۔

تاریخی و سیاسی پس منظر

قادیانی جماعت کا آغاز انگریز حکومت کے دور میں ہوا، جب مسلمان برصغیر میں سیاسی و عسکری مزاحمت کر رہے تھے۔ ایسے وقت میں مرزا غلام احمد قادیانی کی جانب سے جہاد کو حرام قرار دینا، اور برطانوی حکومت کی حمایت میں بیانات دینا، مسلمانوں کے درمیان بدگمانی کا باعث بنے۔ بعض مورخین کے مطابق قادیانی جماعت نے انگریزوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے نظریات تشکیل دیے تاکہ سیاسی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔

آج بھی قادیانی جماعت کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں، خصوصاً مغرب کے زیر اثر کام کرتی ہے اور اسلامی معاشروں میں تفریق اور الجھن پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان کے خلاف نہ صرف مذہبی بلکہ سیاسی اور عوامی مخالفت بھی پائی جاتی ہے۔

سوشل ڈسکریمنیشن اور ریاستی سلوک
ملازمت، تعلیم، اور مذہبی آزادی پر پابندیاں

پاکستان میں احمدیوں کو سرکاری ملازمتوں، تعلیمی اداروں، اور دیگر شعبوں میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ اگرچہ آئینی طور پر تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں، مگر احمدی افراد کو اکثر مذہبی عقائد کی بنا پر تعلیمی اداروں سے خارج کر دیا جاتا ہے یا ان پر ملازمت میں ترقی کے دروازے بند کیے جاتے ہیں۔

اور یہ بھی کہا جاتا  ہے کہ وہ اسلامی شعائر کو جھوٹے انداز میں اختیار کرتے ہیں، اس لیے ان پر مخصوص پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ انہیں قرآنِ پاک کی تلاوت، اسلامی نام رکھنے، یا “السلام علیکم” جیسے کلمات استعمال کرنے پر قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دیگر اقلیتوں سے تقابل

پاکستان میں دیگر اقلیتیں جیسے عیسائی، ہندو، سکھ، وغیرہ، قانونی طور پر اپنی مذہبی آزادی کا حق رکھتی ہیں۔ انہیں مخصوص پارلیمانی نشستیں بھی دی گئی ہیں اور ان پر مذہبی شعائر کی ادائیگی پر کوئی پابندی نہیں۔ تاہم احمدیوں کے لیے صورت حال مختلف ہے کیونکہ وہ خود کو مسلمان کہتے ہیں، اسلامی شعائر کو اپناتے ہیں، اور بنیادی اسلامی عقائد سے انحراف کرتے ہیں، جسے ریاست، مذہبِ اسلام کے خلاف سمجھتی ہے۔

لہٰذا ان کا مسئلہ محض مذہبی اقلیت کا نہیں بلکہ اسلامی دائرہ کار کے اندر رہ کر متضاد عقائد اختیار کرنے کا ہے، جسے ریاستی پالیسی کے تحت روکا گیا ہے۔

عالمی سطح پر قادیانی مسئلے کا تاثر
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کا موقف

عالمی سطح پر قادیانی جماعت خود کو مظلوم اقلیت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ کمیٹیاں اکثر پاکستان میں احمدیوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ ان تنظیموں کے مطابق مذہبی آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور کسی کو بھی اس کے عقیدے کی بنیاد پر قید یا سزائیں نہیں دی جا سکتیں۔

تاہم ان اداروں کی تنقید اسلامی دنیا میں عام طور پر مسترد کی جاتی ہے کیونکہ ان کے فیصلے اسلامی اصولوں کو مدنظر نہیں رکھتے، بلکہ مغربی سیکولر فلسفے پر مبنی ہوتے ہیں۔

قادیانی جماعت کی عالمی حکمت عملی

قادیانی جماعت دنیا بھر میں سرگرم ہے۔ ان کے مراکز، مساجد، اور میڈیا نیٹ ورکس امریکہ، کینیڈا، یورپ، اور افریقہ میں موجود ہیں۔ یہ جماعت مختلف زبانوں میں لٹریچر شائع کرتی ہے، آن لائن تبلیغی پروگرام منعقد کرتی ہے، اور اپنے خلیفہ کے خطبات کو دنیا بھر میں نشر کرتی ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود کو مظلوم اور امن پسند مسلمان ثابت کریں، جبکہ مرکزی اسلامی مکاتب فکر انہیں ایک علیحدہ مذہب تصور کرتے ہیں۔

قادیانی جماعت کی تبلیغی حکمت عملیاں
سوشل میڈیا اور عالمی نیٹ ورکس

قادیانی جماعت جدید ٹیکنالوجی کا خوب استعمال کرتی ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر، اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے چینلز موجود ہیں جہاں وہ اپنے عقائد کو فروغ دیتے ہیں۔ ایم ٹی اے (مسلم ٹی وی احمدیہ) کے نام سے ان کا اپنا بین الاقوامی ٹی وی چینل ہے جس پر خلیفہ وقت کے خطبات، قادیانی تفاسیر، اور تبلیغی مواد نشر کیا جاتا ہے۔

مسلم دنیا میں ردعمل

مسلم ممالک میں قادیانی جماعت کی تبلیغ کو اکثر ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ سعودی عرب، ملائیشیا، انڈونیشیا، اور دیگر مسلم اکثر ممالک نے قادیانی عقائد کو “باطل” قرار دیا ہے اور ان کی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان ممالک کے مطابق قادیانی تحریک اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے اور امتِ مسلمہ میں فرقہ واریت کا سبب بن رہی ہے۔

مسلمانوں کے لیے رہنمائی
عقائد کی پہچان اور تحفظِ ایمان

ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد کی حفاظت کرے۔ ختم نبوت، رسالت، قرآن، سنت، اور صحابہ کرامؓ پر ایمان رکھنا اسلام کا بنیادی جزو ہے۔ کسی بھی نئے مدعیِ نبوت یا ایسے نظریات سے خبردار رہنا چاہیے جو اسلامی اصولوں سے انحراف کریں۔ علم دین حاصل کرنا، عقائد کی صحیح تفہیم، اور اہلِ علم سے رہنمائی لینا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

اعتدال پسند رویہ اور فکری مکالمہ

اگرچہ قادیانی عقائد سے شدید اختلاف موجود ہے، تاہم مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے موقف کو علمی انداز میں پیش کریں۔ تشدد، بدزبانی، یا جذباتی ردعمل کے بجائے دلیل، تحقیق، اور علم سے بات کی جائے۔ یہی طریقہ ،نبی کریم ﷺکی سنت ہے۔ قادیانی جماعت کو اسلام سے الگ مذہب سمجھتے ہوئے اس کے ماننے والوں سے انسانی ہمدردی اور اسلامی اخلاق کے دائرے میں رہ کر معاملہ کرنا چاہیے۔

قادیانیت اور مرکزی اسلام کے درمیان اختلافات محض فقہی یا تاریخی نہیں بلکہ بنیادی عقائد پر مبنی ہیں۔ ختم نبوت، اسلامی شعائر، جہاد اور امت کے تصور پر قادیانی جماعت کا موقف، امتِ مسلمہ کے اجماعی عقائد سے متصادم ہے۔ یہی سبب ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی مسلم معاشرہ بھی قادیانی جماعت کو اسلام سے الگ مذہب تصور کرتا ہے۔ اگرچہ ہر فرد کو اپنے عقائد رکھنے کی آزادی ہے، مگر مذہبی اصطلاحات کے غلط استعمال اور عقیدے کی بنیاد پر مسلم شناخت اختیار کرنا فتنہ کا باعث بنتا ہے۔

Write a comment