باطل کی شکست، حق کی فتح: قادیانی فتنہ اور صوفیائے کرام

باطل کی شکست، حق کی فتح: قادیانی فتنہ اور صوفیائے کرام

اسلام کے تابناک افق پر جب بھی کوئی فتنہ نمودار ہوا، حق کے علمبرداروں نے اپنے ایمان، عزم اور قربانیوں سے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ تاریخِ اسلام میں ایسے بے شمار لمحات ہیں جب سچ اور جھوٹ کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی گئی، اور اہلِ حق نے اپنے خون اور جدوجہد سے اس لکیر کو روشن رکھا۔ قادیانیت کا فتنہ بھی ایک ایسا ہی سیاہ باب ہے جس نے ختمِ نبوت ﷺ کے عقیدے پر وار کرنے کی جسارت کی۔ مگر خوش نصیب ہیں وہ اولیاء کرام اور صوفیائے عظام جنہوں نے نہ صرف اس فتنے کی حقیقت کو بے نقاب کیا بلکہ اپنے علم، بصیرت اور کردار سے امت کو بیدار بھی کیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام دشمن عناصر ہمیشہ مختلف چالاکیوں سے امت مسلمہ کے ایمان کو متزلزل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک فتنہ، جسے “قادیانیت” کہا جاتا ہے، نے اسلامی عقائد پر حملہ کیا اور نبوت کے جھوٹے دعوے کے ذریعے امت کو گمراہ کرنے کی مذموم سازش کی۔ لیکن اللہ کے نیک بندے، صوفیائے کرام، ہمیشہ حق کی پہچان کرانے کے لیے سینہ سپر رہے اور اس باطل فتنے کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔

یہ تحریر اُن عظیم ہستیوں کے افکار و اقوال پر مشتمل ہے جنہوں نے قادیانی فتنے کے خلاف علمِ حق بلند کیا اور اپنے قول و عمل سے ثابت کیا کہ ختمِ نبوت ﷺ کے محافظ ہمیشہ بیدار رہتے ہیں۔ پڑھتے وقت یہ احساس دل میں پیدا ہوگا کہ یہ صرف تاریخ نہیں، بلکہ ایمان کی پکار ہے جو آج بھی ہمارے دلوں کو جھنجھوڑتی ہے۔

پیر مہر علی شاہ گولڑوی

پیر مہر علی شاہ نے قادیانیت کے خلاف بھرپور مزاحمت کی اور اپنی زندگی اس فتنے کی سرکوبی کے لیے وقف کر دی۔ ایک خواب میں حضور اکرم ﷺ نے آپ کو حکم دیا کہ

مرزا قادیانی میری احادیث کو غلط طریقے سے بیان کرکے میری امت کو گمراہ کر رہا ہے، اور تم خاموش بیٹھے ہو؟

یہ خواب دیکھنے کے بعد پیر مہر علی شاہ (رحمتہ اللہ علیہ) نے اپنی زندگی قادیانیت کے خلاف جدوجہد میں صرف کر دی۔

پیر سید عابد حسین شاہ علی پور سیداں شریف، ضلع سیالکوٹ
پیر سید عابد حسین شاہ فرماتے ہیں کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیے جانے اور ان کے خلاف آئینی اقدامات کے باوجود وہ اب بھی اپنے فتنہ انگیز مقاصد اور سازشوں میں مصروف ہیں۔ یہ لوگ اپنی حقیقی شناخت کو چھپا کر اہم سرکاری عہدوں پر فائز ہیں اور اسلام و پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پوری قوم اور حکومتِ وقت پر لازم ہے کہ وہ اس خطرناک سازش کا سختی سے نوٹس لے اور مؤثر اقدامات کرے۔

حضرت خواجہ خان محمد
حضرت خواجہ خان محمد نے قادیانیت کو ایک مصنوعی مذہب قرار دیا جو اسلام دشمن سامراجی طاقتوں کی پیداوار ہے۔ ان کے بقول، اس فتنے کا مقصد اسلام کی بنیادوں کو کمزور کرنا اور پاکستان میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس سے اسرائیل کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں آسانی ہو۔ قادیانی ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ 1974 میں مسلمانوں نے اپنے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد و یکجہتی کی ایک عظیم مثال قائم کی، جس کے نتیجے میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ آج ایک بار پھر اسی اتحاد اور جذبۂ ایمانی کی ضرورت ہے ۔

مولانا پیر حسن شاہ قادری بٹالوی 
مولانا پیر حسن شاہ قادری بٹالوی کے پاس ایک بار مرزا قادیانی آیا۔ مولانا نے اسے نصیحت کی: “اہلِ سنت کے عقیدے پر ثابت قدم رہو اور شیطان و نفس کی غلامی سے بچو۔” مرزا قادیانی کے رخصت ہونے کے بعد ایک مرید نے پوچھا، “حضرت! آپ نے اس شخص کو یہ عجیب نصیحت کیوں فرمائی؟” پیر حسن شاہ نے جواب دیا، “یہ شخص عنقریب گمراہ ہو جائے گا اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے گا کیونکہ ابھی سے شیطان اسے بہکا رہا ہے۔” پیر حسن شاہ کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی اور 36 سال بعد مرزا قادیانی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر دیا۔

میاں شیر محمد شراق پوری

میاں شیر محمد شراق پوری نے اپنی “مراقبہ” کی کیفیت میں مرزا قادیانی کو اس کے انجام کے طور پر ایک آوارہ اور پاگل کتے کی شکل میں اپنی قبر میں چکر لگاتے دیکھا، جو اپنے ہی جسم کو کاٹ رہا تھا۔

خواجہ غلام فرید

خواجہ غلام فرید نے قادیانیت کے بارے میں فرمایا

مرزا قادیانی کافر ہے، قادیانی جہنم میں جائیں گے، نبوت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر مکمل ہو چکی ہے۔

حضرت دیوان سید آل رسول

آپ نے فرمایا

قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد کوئی اور نبی آئے گا۔ یہ عقیدہ اللہ کے کلام کی نفی ہے۔

پیر سید جماعت علی شاہ

پیر جماعت علی شاہ نے مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کے خلاف پانچ نکاتی چیلنج دیا

حقیقی نبی کسی انسان کے شاگرد نہیں ہوتے۔

چالیس سال کی عمر کے بعد ہی نبوت کا اعلان ہوتا ہے، جو کسی نبی کو تدریجی طور پر نہیں ملتی۔

تمام انبیاء کا ایک ہی نام ہوتا ہے، مرزا قادیانی جیسے دوہرے نام نہیں ہوتے۔

نبی کے پیچھے کوئی ترکہ (وراثت) نہیں رہتا۔

جیسے اللہ کا کوئی شریک نہیں، ویسے محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔

قادیانیت کے خلاف یہ بیدار کُن جدوجہد ہمیں ایک اہم پیغام دیتی ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ محض ایک مذہبی نظریہ نہیں، بلکہ ہمارے ایمان کی بنیاد ہے۔ اولیاء کرام اور صوفیائے عظام کی قربانیاں اور ان کی انتھک جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ جنگ صرف الفاظ کی نہیں بلکہ دلوں کے ایمان کی جنگ ہے۔

آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اُنہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اتحاد، ایمان اور علم کے ہتھیاروں سے ہر باطل فتنے کا سامنا کریں۔ یہ تحریر صرف ایک تاریخی دستاویز نہیں بلکہ ایمان کی تجدید کا ایک ذریعہ ہے، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ختمِ نبوت ﷺ کے محافظ ہمیشہ زندہ دل ہوتے ہیں اور وقت آنے پر اپنے ایمان کا عملی ثبوت دیتے ہیں۔

خدا ہمیں بھی وہی جرات، اخلاص اور بصیرت عطا فرمائے جو ان عظیم ہستیوں کے دلوں میں موجزن تھی۔ آمین۔

حوالہ جات

سیرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی

ملفوظات میاں شیر محمد شرقپوری

اقوال خواجہ غلام فرید

تقریرات پیر جماعت علی شاہ

کتب و تحریرات مولانا یوسف لدھیانوی

Write a comment