کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اگر کسی بیمار دماغ والے نے قرآن و حدیث کے صاف اور واضح پیغامات کو اپنی خواہشات کے مطابق موڑنے کی کوشش کی ہو تو اُس کا انجام کیا ہوگا؟ یہی کچھ مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا۔ اُس نے نہ صرف مسیح موعود ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا، بلکہ رسولِ اکرم ﷺ کی احادیثِ صحیحہ کو بگاڑ کر اپنی تحریفات کا جال بچھایا۔ اس مضمون میں ہم انہی سوالات کا مدلل جواب دیں گے جو قادیانی جماعت کو آج تک الجھن میں ڈالے ہوئے ہیں، اور امتِ مسلمہ کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔
حدیثِ نزولِ مسیح اور دو زرد چادریں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
اسی وقت اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا، وہ سفید مینار کے پاس مشرقی دمشق میں نازل ہوں گے، ان پر ہلکے زعفرانی رنگ کے دو کپڑے ہوں گے، اور وہ اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوں گے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو اس سے پانی کے قطرے ٹپکیں گے، اور جب سر اٹھائیں گے تو اس سے موتیوں جیسے قطرے گریں گے۔ ہر کافر جو ان کی خوشبو کو سونگھے گا مر جائے گا، اور ان کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نگاہ جائے گی۔ پھر وہ دجال کو تلاش کریں گے یہاں تک کہ اسے لُد کے دروازے پر پائیں گے اور قتل کر دیں گے۔
صحیح مسلم حدیث 2937
یہ حدیث بالکل واضح اور روشن الفاظ میں اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ جب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر نازل ہوں گے تو ان کے جسمِ مبارک پر دو زرد رنگ کی چادریں ہوں گی۔ نبی کریم ﷺ نے یہ بات ایک ظاہری کیفیت کے طور پر بیان فرمائی ہے، جس میں کسی قسم کا مجاز، تمثیل یا علامتی مفہوم شامل نہیں۔ مگر افسوس کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس حدیث کی من مانی تاویل کرتے ہوئے ان چادروں کو دو بیماریوں کی علامت قرار دیا، جو کہ نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ علمی و دینی دیانت کے سراسر خلاف بھی ہے۔
کیا کسی صحیح حدیث میں یہ ذکر موجود ہے کہ یہ چادریں بیماری یا کسی اور علامت کی نمائندگی کرتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔ کیا رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں کوئی علامتی یا تاویلی وضاحت فرمائی؟ ہرگز نہیں۔ ان چادروں کا ذکر محض ایک حقیقت کے طور پر ہوا ہے، جسے ویسا ہی ماننا اور قبول کرنا ایک مسلمان کا فرض ہے۔
ان ظاہری نشانیوں کو علامتی مفہوم پہنانا اور حدیث کے سادہ اور واضح الفاظ کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنا ایک علمی خیانت اور دین میں تحریف کی کوشش ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے ارشادات ہمارے لیے ہدایت کا روشن مینار ہیں۔ ان میں اپنی طرف سے معنی داخل کرنا نہ صرف گمراہی کا سبب ہے بلکہ امت میں فتنہ پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔
مسیح و مہدی کی علامات: کیا مرزا میں کوئی پائی گئی؟
احادیثِ صحیحہ میں حضرت مسیح اور امام مہدی کی واضح علامات بیان کی گئی ہیں
حضرت مسیحؑ
نزول مشرقی دمشق میں
صحیح مسلم: 2937
ماں کا نام مریم
سورۃ النساء: 157
بغیر باپ کے پیدائش
سورۃ آل عمران
نبی ہوںگے نہ کہ مجدد
صحیح مسم 2937
امام مہدی
نام محمد، والد کا نام عبداللہ
سنن ابوداؤد: 4282
مدینہ میں پیدائش، مکہ میں بیعت
ابن ماجہ: 4085
دمشق میں فوج بھیجنا
ابن ماجہ: 4084
پوری دنیا میں عدل کا نظام قائم کرنا
مرزا قادیانی ان میں سے کسی بھی علامت پر پورا نہیں اُترتا۔ نہ وہ دمشق میں اترا، نہ بغیر باپ کے پیدا ہوا، نہ اُس کی ماں کا نام مریم تھا، نہ وہ دجال کے خلاف کوئی معرکہ جیتا۔ پھر وہ کس بنیاد پر مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے؟ قادیانی جماعت اسی سبب ایک مخمصے میں پھنسی ہوئی ہے: اگر احادیث کو جھٹلائیں تو مرزا کا دعویٰ جھوٹا، اور اگر مانیں تو مرزا کی کوئی علامت پوری نہیں اُترتی۔
صدی کے سر پر مجدد اور چودھویں صدی: حدیث کا وجود؟
مرزا قادیانی نے لکھا
“ایسا ہی احادیثِ صحیحہ میں آیا ہے کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور چودھویں صدی کا مجدد ہوگا”
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، ص ، خزائن ج21 ص359 188)
سوال یہ ہے: ایسی کون سی احادیث صحیحہ ہیں؟ کوئی ایک بھی مستند حدیث ایسی نہیں جس میں “چودھویں صدی” یا “صدی کے سر پر” مسیح کے آنے کا ذکر ہو۔ علماء کے مطابق یہ محض مرزا کا من گھڑت دعویٰ ہے، جسے اس نے اپنی کتاب کو وزنی اور مستند ظاہر کرنے کے لیے “احادیث صحیحہ” کا لبادہ اوڑھایا۔ یہ کھلی ہوئی علمی خیانت ہے۔
مرزا قادیانی اور سن 1335ھ کا جھوٹا حوالہ
مرزا قادیانی نے لکھا
“وہ مسیح 1335ھ تک اپنا کام کرے گا”
(تحفہ گولڑویہ ص117، خزائن ج17 ص292)
مرزا قادیانی کا انتقال 1326ھ میں ہوا۔ تو کیا وہ اللہ کی دی گئی مدت بھی پوری نہ کر سکا؟ اگر وہ سچا ہوتا تو کم از کم اپنے دعوے کے مطابق 1335ھ تک زندہ رہتا۔ قادیانی جماعت آج تک اس پیش گوئی کو سچ ثابت نہیں کر سکی۔
دمشق کے کئی معانی
مرزا قادیانی نے دمشق کے کئی لغوی معانی بتائے
سردار، ناقہ، جمل، چابک دست آدمی
لیکن حدیث میں الفاظ ہیں
“عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق“
یہ مقام آج بھی دمشق (شام) میں موجود ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مقام نزول کی وضاحت جغرافیائی طور پر کی۔ اگر لغوی معنی مقصود ہوتے تو اتنی تفصیل نہ دی جاتی۔ علمائے امت نے ہمیشہ “دمشق” کو ایک شہر کے طور پر لیا ہے، اور کسی مفسر یا محدث نے اسے ناقہ یا چابک دست آدمی نہیں لکھا۔
مرزا قادیانی کے دعووں کا دجل ایک ایسا فتنہ ہے جس نے سچائی کے چہرے پر دھوکے کا نقاب ڈالنے کی کوشش کی۔ اُس نے نبوت، مسیحیت اور مجددیت جیسے بلند مقامات کو اپنی جھوٹی شہرت کے لیے استعمال کیا، اور امت مسلمہ کو گمراہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ اُس کے دعوے نہ صرف دین کی بنیادوں سے ٹکراتے ہیں بلکہ احادیثِ نبوی ﷺ اور اجماعِ امت کی صریح خلاف ورزی بھی ہیں۔
مرزا کے ان باطل دعووں کو “الہام” اور “مکاشفہ” کا لبادہ پہنا کر عوام کو دھوکہ دیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب محض نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کا فریب تھا۔ اُس کے دجل کی پہچان یہی ہے کہ وہ واضح نصوص کو بگاڑ کر، اور تاویلات کا سہارا لے کر اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے پر تُلا رہا۔
مرزا قادیانی نے اپنی سچائی کے لیے احادیثِ نبویہ ﷺ کو بگاڑا، تاویلات کا سہارا لیا، خوابوں کو حقائق پر ترجیح دی، اور امت مسلمہ کو ایک ایسا فتنے میں ڈال دیا جس سے نکلنے کا واحد راستہ ہے کہ ہم قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کی طرف لوٹ آئیں۔ قادیانی جماعت کو اب کھل کر اعلان کرنا چاہیے
یا تو احادیث کا انکار کریں، اور مرزا کا جھوٹا ہونا تسلیم کریں۔
یا پھر احادیث کو مان کر مرزا کی جھوٹی نبوت سے انکار کریں۔
اس فتنے کے خاتمے کے لیے ہر مسلمان کو بیدار ہونا ہوگا۔ قادیانیت کا گورکھ دھندہ صرف علمی، تحقیقی اور روحانی بیداری سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے



