پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس کی بنیاد اسلامی تعلیمات پر رکھی گئی تھی۔ ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے بستے ہیں، لیکن اسلامی نظریہ پاکستان کی اساس ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں کئی فتنوں نے اسلام کی اصل تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی، جن میں ایک بڑا فتنہ “قادیانیت” کا بھی ہے۔ قادیانی اپنے عقائد کی بنا پر اسلامی تعلیمات سے منحرف ہو چکے ہیں اور ان کے نظریات بنیادی اسلامی عقائد سے متصادم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1974 میں حکومتِ پاکستان نے قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا۔ اس مضمون میں ہم قادیانیوں کی غیر مسلم حیثیت کے دلائل، ان کی مصنوعات کی شناخت اور بائیکاٹ کی حکمت عملیوں پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔
قادیانیوں کی غیر مسلم حیثیت: ایک تحقیقی جائزہ
ختم نبوت کا عقیدہ اور قادیانیوں کی انحرافی سوچ
ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا بنیادی اور متفقہ عقیدہ ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
(الاحزاب: 40)
ترجمہ: محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
اس کے علاوہ متعدد احادیثِ مبارکہ میں بھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ( میرے) بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس کے باوجود قادیانیوں کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی (1835-1908) نے جھوٹے دعوے کیے اور خود کو “مسیح موعود” اور “ظلی نبی” کہا۔
مسلم علماء اور اداروں کا متفقہ مؤقف
قادیانیوں کے عقائد کی بنیاد پر پوری امتِ مسلمہ متفق ہے کہ یہ لوگ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ مصر کی جامعہ الازہر، دارالعلوم دیوبند، بریلوی مکتبہ فکر، اہل حدیث علماء اور دیگر عالمی اسلامی ادارے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی تمام مکاتبِ فکر کے علماء قادیانیوں کے خلاف متفق ہیں۔
کی آئینی ترمیم اور قادیانیوں کی قانونی حیثیت1974
پاکستان میں قادیانیوں کی حیثیت پر بحث کے بعد پارلیمنٹ نے 7 ستمبر 1974 کو آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ اس ترمیم کی بنیاد یہی تھی کہ یہ لوگ ختم نبوت کے انکاری ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
قادیانی مصنوعات کی شناخت اور بائیکاٹ کی حکمت عملی
قادیانیوں کی تجارتی سرگرمیاں
پاکستان اور دنیا بھر میں قادیانیوں کے زیر انتظام کئی کمپنیاں اور کاروباری ادارے موجود ہیں۔ یہ ادارے اپنی مصنوعات اور خدمات سے آمدنی حاصل کرکے قادیانی جماعت کی سرگرمیوں کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ ان مصنوعات کی شناخت اور بائیکاٹ کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
قادیانیوں کی مشہور کمپنیاں اور مصنوعات
مندرجہ ذیل کچھ معروف کمپنیاں قادیانیوں کی ملکیت میں سمجھی جاتی ہیں۔
شان فوڈز
قادیانی ملکیت کی مشہور فوڈ کمپنی، جس کے متبادل کے طور پر نیشنل فوڈز، میران فوڈز اور ذائقہ فوڈز موجود ہیں۔
شیزان انٹرنیشنل
جوس، اسکواش، جام اور دیگر فوڈ پروڈکٹس بنانے والی کمپنی۔ اس کا متبادل مزہ جوس، مچلز اور بیکری پروڈکٹس کے لیے ہلال اور ڈان بیکری ہیں۔
مچلز فروٹ فارمز
جام، ساسز اور دیگر پروڈکٹس بنانے والی کمپنی، جس کے متبادل ینگز، نیشنل فوڈز اور مری اسپرکلٹس ہیں۔
مری بریوری
ایک متنازعہ کمپنی، جس کے متبادل میں پاکولا، گورمے اور قرشی مصنوعات شامل ہیں۔
بائیکاٹ کے مؤثر طریقے
مصدقہ معلومات پر انحصار
بائیکاٹ کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی برانڈ کے بارے میں تصدیق شدہ معلومات حاصل کی جائیں تاکہ غلط معلومات کی بنیاد پر کسی بھی مسلم کاروبار کو نقصان نہ پہنچے۔
متبادل مصنوعات کا فروغ
محض بائیکاٹ کافی نہیں، بلکہ مسلم اور مقامی برانڈز کی ترویج بھی ضروری ہے تاکہ صارفین کو معیاری متبادل دستیاب ہوں۔
دیگر مسلم ممالک کو آگاہ کرنا
بائیکاٹ کی مؤثر حکمت عملی کے لیے بین الاقوامی سطح پر بھی شعور بیدار کرنا ضروری ہے تاکہ دوسرے ممالک میں بھی اس مہم کو تقویت دی جا سکے۔
عوام میں شعور اجاگر کرنا
مساجد، مدارس، سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو بائیکاٹ کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔
آج کے جدید دور میں قادیانی اپنے عقائد کو چھپانے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اسلامی اصطلاحات کا غلط استعمال کرتے ہیں اور خود کو “احمدی مسلم” کہلوا کر عالمی سطح پر ایک غلط تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے باوجود، بعض عناصر انہیں دوبارہ مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو قادیانی فتنہ کے بارے میں مکمل آگاہی دی جائے اور ان کے عقائد اور مقاصد سے پردہ اٹھایا جائے۔
قادیانیوں کے عقائد اسلامی تعلیمات سے مکمل طور پر متصادم ہیں، اور ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ محض ایک مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ ایک سماجی اور اقتصادی عمل بھی ہے جو اسلامی اقدار کے تحفظ اور امتِ مسلمہ کی خودمختاری کے لیے ناگزیر ہے۔
بطور مسلمان، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قادیانی مصنوعات کے بارے میں مکمل اور مستند معلومات حاصل کریں، ان کے بائیکاٹ کو یقینی بنائیں اور اس پیغام کو اپنے گرد و نواح میں عام کریں۔ یہ نہ صرف ایک اصولی موقف ہے بلکہ ایک مضبوط، اسلامی اور خودمختار معیشت کی تعمیر کا لازمی جزو بھی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی خریداری کی عادات کو دینِ اسلام کی روشنی میں پرکھیں اور ان مصنوعات کی حمایت کریں جو اسلامی اقدار کے مطابق ہوں۔ کیونکہ ہر خریدی گئی چیز محض ایک پروڈکٹ نہیں بلکہ ہمارے عقائد، ہماری اقدار اور ہمارے مستقبل کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر ہم اپنی معیشت کو پاکیزہ رکھنا چاہتے ہیں، تو ضروری ہے کہ ہم اپنی روزمرہ کی ترجیحات میں اسلامی اصولوں کو مقدم رکھیں۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے—کیا ہم اپنی خریداری کے ذریعے اسلامی اصولوں کا دفاع کریں گے یا بے خبری میں ایسے نظام کو سپورٹ کریں گے جو ہمارے عقیدے سے متصادم ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں بصیرت عطا فرمائے اور ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے۔ آمین



